ابنا: اسکائي نیوز کی رپورٹ کے مطاق ولید فارس نے دعوی کیا ہے کہ القاعدہ اور اس سے وابستہ گروہوں کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جنگ ابھی جاری ہے اور یہ ایک دائمی جنگ ہے۔ اس امریکی عھدیدار نے کہا کہ القاعدہ کے سرغنے ایمن الظواہری اور یمن میں القاعدہ کے سربراہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کو ٹریس کرنے کےبعد مختلف ملکوں میں امریکی سفارتخانے بند کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ القاعدہ کے سرغنے کی گفتگو میں کاروائيوں کا حکم دیا گيا ہے لیکن اس کا وقت اور حملہ آوروں کےبارے میں کوئي بات نہیں کی گئي ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ ایسے عالم میں القاعدہ اور اس سے وابستہ گروہوں کی دہشتگردی کے بارے میں پروپیگنڈہ کررہا ہے جبکہ خود امریکہ نے اپنے پٹھو ملکوں کی افرادی قوت اور مہارت نیز سرمائے کا استعمال کرتےہوئے ان دہشتگرد گروہوں کو وجود بخشا تھا اور انہیں پروان چڑھایا تھا اور آج بھی یہی کام شام میں کررہا ہے۔آج شام و عراق میں القاعدہ اور اس سے وابستہ دہشتگرد گروہ امریکی حمایت اور امریکی پٹھووں کے پیسے سے امت مسلمہ کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ شام میں سرگرم عمل دہشتگرد گروہ امریکہ ، سعودی عرب اور قطر کے پیسوں سے ملت شام کا قتل عام کررہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
6 اگست 2013 - 19:30
News ID: 449669
انسداد دہشتگردی کے امور میں امریکی کانگریس کے مشیر نے دعوی کیا ہےکہ القاعدہ کے خلاف امریکہ کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئي ہے۔